ابو مسعود رضی اللہ عنہ اپنے غلام کو کوڑے سے ما رہے تھے۔ اسی اثناء میں انہوں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی جو انہیں ڈاٹ رہی تھی۔ وہ پہچان نہ پائے کہ آواز دینے والا کون ہے۔ جب آواز دینے والا قریب آیا تو انہیں معلوم ہوا کہ یہ تو رسول اللہ ﷺ کی آواز ہے۔ آپ ﷺ یہ فرماتے ہوئے انہیں اللہ عز و جل کی قدرت یاد دلا رہے تھے کہ ’’اے ابو مسعود! یہ جان رکھو کہ اللہ تم پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تم اس غلام پر رکھتے ہو‘‘۔ جب انہوں نے نبی ﷺ کی بات سنی اور کمزور پر دست درازی کے بارے میں آپ ﷺ کی تحذیر ان تک پہنچی تو رسول اللہ ﷺ کی ہیبت کی وجہ سے کوڑا ان کے ہاتھ سے گر گیا اور انہوں نے نبی ﷺ کے سامنے عہد کیا کہ اس کے بعد وہ کسی غلام کو نہیں ماریں گے۔ نبی ﷺ سے اس ڈانٹ اور ڈراوے کو سن کر انہوں نے مار کے کفّارے کے طور پر اس غلام کو آزاد کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ اگر تم اسے آزاد نہ کرتے تو قیامت کے دن تمہارے اس برے عمل کی وجہ سے تمہیں جہنم کی آگ چھو لیتی۔