آپ ﷺ کے فرمان ”إن مِن“ میں ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے، تم میں سب سے محبوب اور قیامت کے دن مجلس کے اعتبار سے قریب تر وہ شخص ہوگا جو خالق اور مخلوق دونوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئے۔ آگے (إن من) میں بھی ”مِنْ“ تبعیض کے لیے ہے۔ چنانچہ ”أبغضكم“ کا معنی ہوا تم میں سے سب سے ناپسندیدہ اور قیامت کے دن مرتبے کے لحاظ سے مجھ سے بعید تر وہ شخص ہوگا جو زیادہ تکلّف سے باتیں کرتا ہے، ”المتشدق“ وہ شخص جو لوگوں میں بڑائی اور عظمت کے لیے لمبی لمبی باتیں کرتا (ہانکتا) ہو اور جو اپنی گفتگو میں تکبّر کرے اور دوسروں پر اپنی فوقیت ظاہر کرے۔