اللہ تبارک و تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے بنائے اور ان میں سے ایک حصہ دنیا میں نازل کیا اور بقیہ ننانوے حصے قیامت کے دن کے لیے اپنے پاس روک رکھا۔ اسی ایک رحمت ہی کی وجہ سے تمام مخلوقات یعنی جن و انس، چوپائے اور کیڑے مکوڑے آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں یہاں تک کہ گھوڑی جو پھرتیلے پن اور ادھر ادھر منتقل ہونے میں مشہور ہے وہ بھی احتیاط کرتی ہے کہ کہیں اپنے بچے کو گزند نہ پہنچا دے چنانچہ اسے نقصان پہنچنے کے اندیشے کی وجہ سے اپنا کھر اوپر اٹھا لیتی ہے۔ اسی رحمت کی وجہ سے جنگلی جانور اپنے بچے پر شفقت کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ننانوے رحمتیں موخر کر رکھی ہیں تاکہ ان کے ذریعہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے۔ دوسری حدیث: اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخليق کے دن ہی سو رحمتوں کو پيدا فرمایا۔ ہر رحمت اتنی ہے کہ اس سے آسمان اور زمین کے مابین کی جگہ بھر جائے۔ اللہ تعالی نے ان میں سے ایک رحمت کو دنیا میں رکھا جس کی وجہ سے ماں اپنے بچے پر اور حیوانات و پرندے باہم ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں۔ پھر روزِ قیامت اللہ رب العالمين (اس کے ساتھ) ننانوے رحمتیں ملا کر اسے پورا فرما دے گا۔ جب اس ایک رحمت کی بدولت انسان کو اس تلخیوں بھری دنیا میں اللہ عز و جل کی اتنی عظیم الشان نعمتیں ملتی رہتی ہیں تو پھر سو رحمتوں کے ساتھ آخرت کے بارے میں آپ کا گیا گمان ہے جو جائے قرار و جزا ہے۔