اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سچ بولنے کا حکم دیا اور بتایا کہ سچ بولنے کا اہتمام انسان کو دائمی عمل صالح کی جانب لے جاتا ہے اور اچھے کاموں کی پابندی انسان کو جنت تک لے جاتی ہے۔ انسان جب سری اور علانیہ طور پر مسلسل سچ بولنے کا اہتمام کرتا ہے، تو صدیق نام کا حق دار بن جاتا ہے، جس کے معنی ہیں سچ بولنے کا بہت زیادہ اہتمام کرنے والا۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جھوٹ سے خبردار کیا۔ کیوں کہ جھوٹ انسان کو استقامت کی راہ سے ہٹا دیتا ہے اور شر و فساد اور گناہوں کی جانب لے جاتا ہے اور اس طرح اسے جہنم تک پہنچا دیتا ہے۔ انسان جب مسلسل بہ کثرت جھوٹ بولتا رہتا ہے، تو اللہ کے یہاں جھوٹوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔