جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جنت میں پیدا کیا اور ان کی شکل بنائی، تو انہیں کچھ عرصہ ایسا ہی چھوڑے رکھا، اس میں روح نہیں پھونکی۔ ابلیس ان کے گرد گھومنے لگا اور دیکھتا رہا تاکہ یہ معلوم کرے کہ یہ کیا چیز ہے۔ جب اس نے دیکھا کہ یہ اندر سے خالی ہے اور درمیان سے کھوکھلی ہے، تو وہ جان گیا کہ یہ کمزور مخلوق ہے اور اپنے آپ سے وسوسے دور نہیں کرسکتا یا یہ جان لیا کہ یہ پیٹ کی طرف سے گناہ کرسکتا ہے، تو اس نے اسے درخت کھانے پر لگا دیا یا اسے علم ہوا کہ اندر سے خالی مخلوق کمزور ہوتی ہے۔ یہاں بعض لوگ ”في الجنة“ کے الفاظ پر اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تو آدم علیہ السلام کو زمین کے اجزاء سے پیدا کیا ہے (وہ جنت میں کیسے پہنچ گئے؟!)۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں یہ احتمال ہے کہ انہیں ایسا چھوڑا گیا، جب کچھ عرصہ ایسا ہی گزرا اور روح پھونکنے کے لیے شکل تیار کی گئی، پھر انہیں جنت لے جا کر روح پھونکی گئی۔