ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنی مجلس میں عوام الناس میں سے حاضر ہونے والے ایسے لوگوں پر نکیر کر ربے ہیں جو اللہ کی صفات کے بارے میں کوئی حدیث سنتے ہیں تو خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور بطور انکار ان پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ چنانچہ وہ لوگ اس چیز پر واجب ایمان نہیں رکھتے جو رسول ﷺ سے صحیح ثابت ہے اور انہوں نے اس کے معنی کو قرآن سے جان لیا ہے۔ جو کہ برحق ہے جس میں کوئی مومن شک نہیں کر سکتا۔اور بعض اسے اس معنی پر محمول کرتے ہیں جو اللہ کی مراد نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوجا تا ہے۔