نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں مؤمنوں پر اللہ کے فضل واحسان اور کافروں کے تئیں اللہ کے عدل وانصاف کو بیان فرمایا ہے۔ جہاں تک مؤمن کی بات ہے، تو اس کی ایک نیکی کا بھی ثواب کم نہیں ہوتا، بلکہ اس کی اطاعت کے بدلے اسے دنیا میں بھی بھلائی ملتی ہے اور ساتھ میں آخرت کے لیے بھی ثواب ذخیرہ کیا جاتا ہے اور بسا اوقات اس کا تمام بدلہ آخرت کے لیے ہی محفوظ کر دیا جاتا ہے۔ رہی بات کافر کی، تو اس کی نیکیوں کے بدلے اسے دنیا میں ہی اللہ تعالی بھلائیاں دے دیتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا، تو اس کے لیے کوئی ثواب باقی نہ رہے گا، جس کا بدلہ اسے دیا جائے، کیوں کہ دنیا وآخرت میں جو نیک عمل کام آتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ کرنے والا مؤمن ہو۔