کافر جب کوئی نیک کام کرتا ہے تو اللہ عزّ وجلّ اس کے بدلے میں اسے دنیا ہی میں رزق عنایت کر دیتا ہے لیکن مومن جب کوئی نیکی کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کا اجر محفوظ رکھ چھوڑتا ہے تاکہ آخرت میں اسے یہ دیا جا سکے ساتھ ہی دنیا میں اسے اس کی اطاعت گزاری پر رزق بھی دیتا ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ ایسا نہیں ہوتا کہ اللہ تعالی مومن کو اس کی نیکیوں کا بدلہ نہ دیں بلکہ اللہ تعالی اسے ان کے بدلے میں دنیا میں رزق دیتے ہیں اور آخرت میں بھی اسے ان کا ثواب ملے گا۔ جب کہ کافر کو اللہ تعالی اس کے اچھے کاموں کے بدلے میں دنیا ہی میں رزق دے دیتا ہے بایں طور کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کی کوئی ایسی نیکی نہیں ہو گی جس پر اسے ثواب دیا جائے۔ علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ کافر جب حالتِ کفر ہی میں مر جائے تو آخرت میں اسے کوئی ثواب نہیں ملتا اور نہ ہی جہان آخرت میں اس کے کسی ایسے عمل کا بدلہ ملے گا جسے اس نے دنیا میں اللہ کی خوشنودی کے لیے کیا ہو گا اس لیے کہ ایمان عمل کی قبولیت کی بنیادی شرط ہے۔ اس حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ اللہ کی خوشنودی کے لیے وہ دنیا میں جو نیک اعمال کرتا ہے جن کے درست ہونے کے لیے نیت کی ضرورت نہیں ہوتی جیسے صلہ رحمی، صدقہ کرنا، آزاد کرنا، مہمان نوازی اور نیک اعمال کے لیے سہولت کاری وغیرہ، تو ان کے عوض میں اسے دنیا میں رزق عنایت کیا جاتا ہے۔ تاہم اگر کافر اس طرح کے نیک اعمال کرے اور پھر اسلام لے آئے تو اسے آخرت میں ان کا ثواب ملے گا جیسا کہ حدیث میں ہے (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:) ”تم اس بھلائی سمیت اسلام میں داخل ہوئے جو تم نے پہلے کی ہیں“۔