اللہ تبارک و تعالی روز قیامت سورج کو انسانوں کے قریب کر دے گا، یہاں تک کہ وہ ان کے اور سورج کے مابین چار ہزار ہاتھ کا فاصلہ رہ جائے گا، لوگوں کا حشر ان کے اعمال کے حساب سے ہو گا اور وہ اپنے اچھے اور برے اعمال کے لحاظ سے پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ کچھ ایسے ہوں گے، جن کے ٹخنوں تک پسینہ پہنچ رہا ہو گا، کچھ ایسے ہوں گے، جن کے گھٹنوں تک پسینہ پہنچ رہا ہو گا، کچھ کے ازار بند کی جگہ تک پسینہ پہنچ رہا ہو گا اور کچھ کے منہ اور کانوں تک پسینہ پہنچ رہا ہو گا اور ان کی لگام بن رہا ہو گا۔ ایسا قیامت کے دن کی پریشانی اور ہول ناکی کے باعث ہو گا۔