اللہ کے نبی ﷺ نے بتایا کہ جس نے کسی تنگ دست قرض دار کو مہلت دی یا اس کے قرض کا کچھ حصہ معاف کردیا، بدلے میں قیامت کے دن اللہ تعالی اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، جس دن سورج بندوں کے سروں سے قریب ہو جائے گا اور انہیں سورج کی بڑی سخت تپش کا سامنا ہوگا۔ اس دن سایہ اسی کو نصیب ہوگا، جسے اللہ تعالیٰ سایہ فراہم کرے گا۔