نبی ﷺ نے خبر دی کہ آپ کی امت وجود اور زمانے کے اعتبار سے آخری امت ہے اور یہی وہ پہلی امت ہے جس کا بروز قیامت سب سے پہلے حساب وکتاب ہوگا۔ چنانچہ بروز قیامت کہا جائے گا: ”امی امت اور اس کے نبی کہاں ہیں؟“ یہ نسبت آپ ﷺ کے امی ہونے یعنی پڑھنے اور لکھنے سے ناواقفیت کی طرف ہے۔ چنانچہ انہیں سب سے پہلے حساب کے لیے بلایا جائے گا، ہم زمانے اور وجود کے اعتبار سے سب سے پیچھے ہیں، اور قیامت کے دن حساب وکتاب میں اور جنت میں داخل ہونے میں سب سے آگے ہوں گے۔