اس حدیث میں نبی ﷺ فرماتے ہیں: میں دنیا میں کیسے خوش و خرم رہوں اور اس کی لذتوں سے بہرہ ور ہوتا رہوں جب کہ قیامت قریب ہے اور صور پھونکنے پر مامور فرشتہ (اسرافیل) اپنے منہ کو صور کے ساتھ لگائے ہوئے ہے، اپنے سر کو اسی طرف جھکائے ہوئے خاموش تیار ہے کہ اللہ صور پھونکنے کا حکم دے اور وہ صور پھونکے یہاں تک کہ آسمانوں اور زمین میں موجود لوگ بیہوش ہوجائیں اور قیامت قائم ہو جائے؟ یہ معاملہ یعنی قیامت قائم ہونے کی قربت رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں پر بھاری و بوجھل محسوس ہوئی، انھوں نے کہا: ایسے موقع پر ہم کیا کہیں اے اللہ کے رسول؟ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ﴿حسبُنا اللهُ ونِعْمَ الوَكيلُ توكَّلنا على اللهِ ربِّنا﴾ ”ہمیں اللہ کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے، ہم نے اپنے رب اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے“ یعنی کہو کہ:اللہ ہمارے لیے کافی ہے، وہی ہمارا کارساز ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے اور ہم نے اللہ سبحانہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کیا ہے۔