اس حدیث کا مفہوم وہی ہے جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ ہر کسی کا جنت میں بھی ایک ٹھکانہ ہے اور جہنم میں بھی۔ مومن جب جنت میں جاتا ہے تو جہنم میں اس کی جگہ کافر چلا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے کفر کی وجہ سے اس کا مستحق ہے۔ ”فِکاک“ کا معنیٰ یہ ہے کہ تو جہنم میں داخل ہونے والا تھا، اب یہ تیرا تاوان ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جہنم کے لیے لوگوں کی اتنی مقدار متعین کر رکھی ہے جو اسے بھر دے گی۔ جب کافر لوگ اپنے گناہوں اور کفر کی بدولت اس میں جائیں گے تو وہ گویا مسلمانوں کے لیے تاوان بن جائیں گے۔ واللہ اعلم۔