اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کو اس بات کی ترغیب دی کہ عمل کرتے رہیں، افراط و تفریط سے بچتے ہوئے جہاں تک ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہیں، ان کے عمل کا مقصد حق جوئی ہو‘ بایں طور کہ اخلاص الہی اور اتباع سنت کے ساتھ عمل کریں، تاکہ ان کے اعمال قبول ہوں اور نزول رحمت کا سبب بنیں۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ فقط تم میں سے کسی کا عمل اسے نجات نہيں دلا سکتا۔ بلکہ اللہ کی رحمت شامل حال ہونا ضروری ہے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کے اتنے سارے اعمال بھی آپ کو نجات نہيں دلا سکتے؟ جواب دیا: مجھے بھی نہيں، جب تک کہ اللہ اپنے فضل ورحمت کی چادر مجھ پر نہ پھیلا دے۔