اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حدیث قدسی میں بتایا کہ اللہ عز و جل نے فرمایا : جس نے میرے اولیا میں سے کسی ولی کو اذیت دی، ناراض کیا اور بغض رکھا، اس کے ساتھ میری جانب سے اعلان عداوت ہے۔ ولی سے مراد تقوی شعار مومن ہے۔ جس کے دامن میں ایمان اور تقوی کا جس قدر حصہ ہوگا، اسے اللہ کی ولایت کا اتنا حصہ نصیب ہوگا۔ مسلمان اللہ کا تقرب جن چيزوں سے حاصل کرتا ہے، اللہ کے نزدیک ان میں سے سب سے محبوب چیزیں وہ ہیں، جو اللہ نے اس پر فرض کی ہیں۔ اس میں اطاعتوں پر عمل آوری اور محرمات سے اجتناب دونوں داخل ہيں۔ مسلمان فرائض کے ساتھ نوافل کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کرتا جاتا ہے اور ایک وقت آتا ہے جب اسے اللہ کی محبت حاصل ہو جاتی ہے۔ جب اللہ اس سے محبت کرتا ہے تو اس کے درج ذیل چار اعضا کا صحیح رخ متعین کر دیتا ہے : اس کے کان کے عمل کا صحیح رخ متعین کر دیتا ہے۔ لہذا وہ وہی سنتا ہے، جو اللہ کو پسند ہو۔ اس کی نگاہ کے عمل کا صحیح رخ متعین کر دیتا ہے۔ وہ وہی دیکھتا ہے، جسے دیکھنا اللہ کو پسند ہو۔ اس کے ہاتھ کے عمل کا صحیح رخ متعین کر دیتا ہے۔ وہ اپنے ہاتھ سے وہی کام کرتا ہے، جو اللہ کو پسند ہو۔ اس کے پیر کے عمل کا صحیح رخ متعین کر دیتا ہے۔ وہ اسی سمت میں چلتا ہے، جو اللہ کو پسند ہو اور وہی کام کرتا ہے، جس میں خیر ہو۔ ساتھ ہی اگر اللہ کے سامنے دست سوال دراز کرتا ہے، تو اللہ اس کی جھولی بھر دیتا ہے۔ اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اگر اللہ کی پناہ طلب کرتا ہے، تو اللہ اسے خوف سے نجات عطا کرتا ہے۔ اخیر میں اللہ تعالی نے فرمایا : مجھے کوئی کام کرتے ہوئے اتنا تردد نہيں ہوتا، جتنا تردد مومن کی جان قبض کرتے ہوئے اس کے اوپر رحم آنے کى وجہ سے۔ کیوں کہ موت کی الم ناکیوں کے پیش نظر اسے موت ناپسند ہوتی ہے اور اللہ ایسی چیزوں کو ناپسند کرتا ہے، جو مومن کے لیے باعث تکلیف ہو۔