نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو خطبہ دیتے ہوئے پانچ مکمل جملے ارشاد فرمائے، جو یہ ہیں: پہلاجملہ: اللہ عزوجل سوتا نہیں ہے۔ دوسرا جملہ: اس کی کامل قیّومیت اور مکمل حیات کی وجہ سے اس کے حق میں نیند محال ہے۔ تیسرا جملہ: اللہ تعالیٰ میزان کو جھکاتا اور اٹھاتا ہے؛ بندوں کے ان اعمال کے وزن کے ذریعے جو اس کی طرف بلند ہوتے اور چڑھتے ہیں اور ان کی روزیوں کے وزن کے ذریعے جو زمین کی طرف نازل ہوتی ہیں۔ چنانچہ رزق جو ہر مخلوق کا حصہ اور نصیب ہے، اللہ سبحانہ اسے پست کرکے تنگ کردیتا ہے اور بلند کرکے کشادہ کردیتا ہے۔ چوتھا جملہ: بندوں کے رات کے اعمال اگلے دن سے پہلے اور دن کے اعمال اگلی رات سے پہلے اللہ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں؛ چنانچہ نگہبان فرشتے رات کے اعمال اس کے ختم ہونے پر دن کے شروع میں، اور دن کے اعمال اس کے ختم ہونے پر رات کے شروع میں اوپر لے جاتے ہیں۔ پانچواں جملہ: اللہ سبحانہ و تعالی کا حجاب جو اس کے دیدار سے مانع ہے، نور ہے یا آگ۔ اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کی کرنوں سے تاحد نگاہ ساری مخلوقات جل کر خاک ہوجائیں؛ چنانچہ اس کے چہرے کی تجلیات اس کا نور، اس کا جلال اور اس کی شان ہیں۔ مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ اپنے دیدار سے مانع چیز یعنی حجاب کو ہٹا دے اور اپنی مخلوق پر تجلی فرمائے، تو اس کے چہرے کی کرنوں سے تاحد نگاہ اس کی ساری مخلوق جل کر خاک ہوجائے؛ اور اس سے مراد تمام مخلوقات ہیں؛ کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کی نگاہ تمام مخلوقات کو محیط ہے۔