ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ آیت پڑھتے تھے:﴿اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهۡلِهَ... سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا﴾ ”اللہ تعالیٰ تمھیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاؤ!... (بے شک اللہ تعالیٰ) سنتا ہے، دیکھتا ہے“ (النساء: 58).رسول اللہﷺکواس آیت کی تلاوت کرتے وقت اپنی پانچویں موٹی انگلی کواپنے کان پراوراس کے پاس والی انگلی کواپنی آنکھ پررکھتے ہوۓ دیکھاہے۔ایساآپﷺنے اللہ تعالی کے لیے سمع وبصرکی صفات کے اثبات میں تاکیدپیداکرنے کے لیے اورتحریف کرنے والوں کی تاویلات کوردکرنے کے لیے کیا۔اس میں مخلوق کے ساتھ تشبہہ نہیں ہے۔کیوں کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِير﴾ ”اس جیسی کوئی چیز نہیں،وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے“،چنانچہ نصوص پر مکمل طور پر ایمان لانے کا تقاضا ہے کہ جو کچھ ذکر کیا گیا ہے، اس پر ایمان لایا جائے۔