اس حدیث قدسی میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہيں کہ اللہ عز و جل نے کفار و مشرکین کے بارے میں بتایا کہ وہ اسے جھٹلاتے ہیں اور کمیوں، عیوب اور نامناسب باتوں سے متصف کرتے ہيں, جو کہ ان کے لئے قطعا مناسب نہیں ہے۔ جہاں تک ان کے ذریعے اللہ کو جھٹلائے جانے کی بات ہے، تو یہ دراصل ان کا یہ زعم ہے کہ اللہ موت کے بعد ان کو دوبارہ زندہ نہیں کرے گا، جس طرح پہلی بار عدم سے وجود بخشا تھا۔ اللہ نے ان کا رد کرتے ہوئے کہا کہ جس نے ان کو عدم سے وجود بخشا، وہ ان کو دوبارہ پیدا کر سکتا ہے۔ بلکہ یہ کام اس کے لیے کہیں زیادہ آسان ہے۔ گرچہ (اگر حقیقت کى رو سے دیکھا جائے) تواللہ کے لئے پہلی بار اور دوبارہ پیدا کرنا دونوں برابر ہیں, کیوں کہ وہ ہر چيز پر قادر ہے۔ جب کہ ان کے گالی دینے سے مراد ان کا یہ کہنا ہے کہ اللہ کی اولاد ہے۔ اللہ نے ان کا رد کرتے ہوئے کہا کہ اللہ اکیلا، اپنے ناموں، صفات اور افعال کے اندر ہر طرح کے کمال کی حامل واحد ہستی، ہر نقص و عیب سے پاک اور بے نیاز ہے کہ سب اس کے محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ وہ کسی کا والد نہيں، کسی کی اولاد نہيں، کوئی اس کا ہم سر اور مثیل و نظیر بھی نہيں ہے۔