نعمان بن بشیر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے بطورِ خاص انہیں اپنا کچھ مال دیا۔ ان کی والدہ یہ چاہتی تھیں کہ نبی ﷺ کی گواہی کے ذریعے اس کی تاکید کرالیں چنانچہ ان کی والدہ نے ان کے والد سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ہبہ شدہ مال پر نبی ﷺ کو گواہ بنائیں۔ چنانچہ جب ان کے والد انہیں لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ ﷺ اس کے گواہ بن جائیں تو آپﷺ نے ان سے پوچھا: کیا تم نے اس طرح کا ہبہ اپنی ساری اولاد کو کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ اولاد میں سے کچھ کو خاص کر لینا اور باقی کو چھوڑ دینا یا پھر انہیں ایک دوسرے پر فضیلت دینا تقوی کے منافی رویہ ہے اور زیادتی اور ظلم ہے کیونکہ اس میں بہت سے مفاسد مضمر ہیں۔ اس کی وجہ سے جس اولاد پر دوسروں کو ترجیح دی گئی ہوتی ان کی اپنے باپ سے قطع تعلقی ہو جاتی ہے اور وہ اس سے دور ہو جاتے ہیں اور ان کے جن بھائیوں کو ان پر ترجیح دی گئی ہوتی ہے ان سے ان کی دشمنی اور نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ کچھ ایسے مفاسد ہیں (جو اس طرح کی بے انصافی سے جنم لیتے ہیں)۔ اس وجہ سے نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے مابین عدل کرو اور مجھے ظلم و جور کے کام پر گواہ نہ بناؤ۔آپ ﷺ نے یہ کہتے ہوئے اس عمل پر ان کی توبیخ کی اور انہیں اس سے نفرت دلائی کہ اس کام پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔بشیر رضی اللہ عنہ نے لوٹتے ہی وہ ہبہ شدہ مال واپس لے لیا جیسا کہ صحابہ کرام کا طرز عمل ہوا کرتا تھا کہ وہ اللہ کی قائم کردہ حدود کی پاسداری کیا کرتے تھے۔