رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی غزوے میں ایک جگہ پر تھے، جیسے ذوالحلیفہ کہا جاتا ہے۔ ان کے پاس بہت سارے جانور تھے۔ انھوں نے ان کی تقسیم کا انتظار کیے بغیر ،تقسیم سے پہلے ہی ان کو ذبح کر دیا۔ رسول اللہﷺ پیچھے تھے، جب پہنچے تو لوگوں نے ہانڈیاں چڑھا دی تھیں۔ آپ ہانڈیوں کے پاس جاکر انھیں انڈیل دیا اور مٹی ڈال دی۔ نیز فرمایا: لوٹ مار کا مال مردار سے زیادہ حلال نہیں ہے! پھر آپﷺ نے مال غنیمت تقسیم کیا اور ایک اونٹ کے برابر دس بکریاں مقرر کیں۔ پھر لوگوں نے اپنے اپنے حصے کے جانور ذبح کیے۔ ان جانوروں میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا اور گھوڑوں کی قلت کی وجہ سے وہ اسے قابو میں نہ کر سکے۔ ایک آدمی نے اسے تیر مارا اور اللہ کے حکم سے وہ وہی رک گیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ان ( پالتو ) جانوروں میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح بعض دفعہ وحشت ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر کوئی جانور قابو میں نہ آئے، تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔ پھر رسول اللہﷺ سے یہ پوچھا گیا کہ ذبح کس طریقے سے کیا جائے؟ تو ان کو بتایا کہ ہر وہ چیز جس سے خون بہنا شروع ہو جائے اور ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو، اس کا کھانا جائز ہے۔ جب کہ ناخن چاہے وہ انسانی ہاتھ کے ساتھ ہو یا الگ، اس سے ذبح کرنا جائز نہیں؛ کیوں کہ یہ کافر وں کی چھری ہے اور دانت سے ذبح کرنا بھی جائز نہیں ہے اس لیے کہ وہ ہڈی ہے۔