اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو وہ تشہد سکھایا، جو نماز میں پڑھا جاتا ہے۔ تشہد سکھاتے وقت آپ نے ان کے ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان رکھا ہوا تھا، تاکہ ان کی پوری توجہ آپ پر مرکوز رہے۔ آپ نے تشہد اسی طرح سکھایا، جس طرح قرآن کی سورہ سکھاتے تھے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اس تشہد کے الفاظ اور معنی دونوں کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے تھے۔ چنانچہ آپ نے کہا: "التَّحِيَّات لله" : اس سے مراد ہر وہ قول یا فعل ہے جو تعظیم پر دلالت کرتا ہو۔ اس طرح کے سارے اقوال اور افعال کا مستحق صرف اللہ ہے۔ "الصَّلَوَاتُ" : یعنی ساری نمازیں، فرض ہوں کہ نفل اللہ کے لیے ہیں۔ "الطَّيِّبَاتُ" : پاکی اور کمال پر دلالت کرنے والے سارے اقوال، افعال اور اوصاف اللہ تعالی کے لیے ہیں۔ "السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته" : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہر آفت اور ناپسندیدہ چیز سے سلامتی اور ہر بھلائی میں اضافہ اور کثرت کی دعا۔ "السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين" : نمازی اور آسمان اور زمین میں رہنے والے ہر صالح بندے کے لیے سلامتی کی دعا۔ "أشهد أن لا إله إلا الله" : یعنی پورے یقین کے ساتھ اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہيں ہے۔ "وأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ ورسولُهُ" : میں آپ کے اللہ کا بندہ ہونے اور آخری رسول ہونے کا اقرار کرتا ہوں۔ اخیر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے نمازی کو اس بات کی ترغیب دی ہے کہ وہ جو دعا چاہے، کرے۔