اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کچھ چیزیں بتائی ہيں، جن کو کرنا شرک ہے۔ مثلا : 1- جھاڑ پھونک اور منتر: وہ شرکیہ باتیں جن کو زمانۂ جاہلیت کے لوگ شفا حاصل کرنے کے لیے پڑھا کرتے تھے۔ 2- سیپ وغیرہ سے بنے ہوئے تعویذ، جن کو بچوں اور جانوروں کے جسم میں نظر بد سے حفاظت کے لیے باندھا جاتا ہے۔ 3- ٹوٹکے، جو میاں بیوی میں سے ایک کے اندر دوسرے کی محبت ڈالنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ یہ تینوں کام شرکیہ اعمال ہیں۔ کیوں کہ ان کاموں میں ایسی چیزوں کو سبب بنایا جاتا ہے، جو نہ تو دلیل سے ثابت شرعی سبب ہیں اور نہ تجربہ سے ثابت حسی سبب ہیں۔ رہی بات شرعی اسباب مثلا قرآن کی تلاوت اور حسی اسباب مثلا تجربہ سے ثابت شدہ دواؤں کی، تو ان کا استعمال اس عقیدے کے ساتھ کرنا جائز ہے کہ یہ محض اسباب ہیں اور نفع و نقصان کا مالک اللہ ہے۔