نجد کا رہنے والا ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا۔ بال بکھرے ہوئے تھے۔ آواز اونچی تھی۔ لیکن کیا کہہ رہا ہے، سمجھ میں نہيں آرہا تھا۔ یہاں تک کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا اور اسلامی فرائض کے بارے میں پوچھنے لگا۔ جواب میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے آغاز نماز سے کیا اور بتایا کہ اللہ نے اس پر دن اور رات میں پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔ اتنا سننے کے بعد اس نے پوچھا کہ کیا ان پانچ نمازوں کے علاوہ بھی کوئی نماز مجھ پر فرض ہے؟ آپ نے جواب دیا : نہيں۔ البتہ تم نفل نمازیں جتنی چاہو، پڑھ سکتے ہو۔ بعد ازاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : تمھارے اوپر رمضان مہینے کے روزے بھی فرض ہيں۔ اس نے عرض کیا : کیا رمضان مہینے کے روزے کے علاوہ بھی کوئی روزہ مجھ پر فرض ہے؟ آپ نے جواب دیا : نہيں۔ البتہ تم نفل روزے رکھنا چاہو، تو رکھ سکتے ہو۔ پھر آپ نے اس کے سامنے زکاۃ کا ذکر کیا۔ لہذا اس نے پوچھا : کیا فرض زکاۃ کے بعد بھی کوئی صدقہ ضروری ہے؟ آپ نے کہا : نہيں۔ البتہ نفلی صدقے کرنا چاہو، تو کر سکتے ہو۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ان فرائض کو سننے کے بعد وہ شخص واپس چلا گیا۔ جاتے ہوئے اس نے اللہ کی قسم کھاکر بتایا کہ وہ کوئی کمی بیشی کیے بغیر ان فرائض کی پابندی کرے گا۔ اس کی بات سن کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: یہ آدمی اگر اپنی قسم پر کھرا اترا، تو کامیاب ہو جائے گا۔