اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ایک مسلمان دوران گفتگو "جو اللہ چاہے اور جو فلاں چاہے" کہے۔ یا اسی طرح "جو اللہ اور فلاں چاہے" کہے۔ ایسا اس لیے کہ اللہ کی مشیت اور اس کا ارادہ مطلق ہے اور اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ جب کہ عطف کے لیے "واو" کے استعمال سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ اللہ کے ساتھ کوئی شریک ہے اور دونوں برابر ہيں۔ اس لیے ایک مسلمان کو "جو اللہ چاہے اور پھر جو فلاں چاہے" کہنا چاہیے۔ اس لیے "واو" کی جگہ پر "ثم" کے استعمال سے بندے کی مشیت اللہ کی مشیت کے تابع ہو جائے گی۔ کیوں کہ "ثم" کسی کام کے کچھ دیر بعد ہونے کا فائدہ دیتا ہے۔