explain-icon

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم طواغی کی قسم کھانے سے منع فرما رہے ہیں۔ طواغی طاغیۃ کی جمع ہے۔ مراد وہ بت ہیں، جن کی اللہ کے بجائے مشرکین پوجا کیا کرتے تھے۔ یہ بت دراصل ان کی سرکشی اور کفر کا سبب تھے۔ اسی طرح آپ آبا واجداد کی قسم کھانے سے منع فرما رہے ہیں۔ کیوں کہ عرب کے لوگ اپنے آبا واجداد کی قسم ان پر فخر اور ان کی عزت کے طور پر کھایا کرتے تھے۔

explain-icon

حدیث کے کچھ فوائد

  • قسم بس اللہ اور اس کے اسما وصفات کی کھانا جائز ہے۔
  • طاغوتوں، آبا واجداد، پیشواؤں، بتوں اور ان جیسی باطل چیزوں کی قسم کھانا جائز نہيں ہے۔
  • غیراللہ کی قسم کھانا ویسے تو شرک اصغر ہے، لیکن دل میں اس کی اللہ کی جیسی تعظیم بس جائے یا اسے عبادت کا سزاوار سمجھ لیا جائے، تو یہ شرک اکبر ہو جاتا ہے۔