اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک جماعت آئی۔ کل دس لوگ تھے۔ نو لوگوں سے آپ نے اسلام اور تابع داری کی بیعت لی اور دسویں کو چھوڑ دیا۔ جب اس کا سبب پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا : اس کے جسم پر تعویذ بندھا ہوا ہے۔ تعویذ موتی وغیرہ کو کہتے ہیں، جن کو نظر بد یا نقصان سے بچنے کے لیے باندھا یا لٹکایا جاتا ہے۔ چنانچہ اس شخص نے تعویذ کی جگہ پر ہاتھ ڈالا اور اسے کاٹ کر پھینک دیا۔ چنانچہ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے بیعت لی اور تعویذ وغیرہ سے خبردار کرتے ہوئے اور اس کا حکم بیان کرتے ہوئے فرمایا: "جس نے تعویذ لٹکایا، تو بلا شبہ اس نے شرک کیا۔"