نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اس صحابی کی عمر لمبی ہو گی، یہاں تک کہ وہ ایسے لوگوں کو پائیں گے، جو داڑھیوں کے معاملے میں آپ ﷺ کے طرز عمل، یعنی انھیں بڑھانے اور ان کے احترام کی بجائے وہ عجمی و عیش پروردہ اور احمق لوگوں کی طرح ان کے ساتھ مذاق شروع کر دیں گے۔ یا پھر شرکیہ ذرائع کے استعمال کی وجہ وہ عقیدۂ توحید میں خلل انداز ہوں گے، بایں طور کہ کسی آفت کے دفعیہ کے لیے خود تانت کے ہار پہنیں گے یا پھر اپنے چوپایوں کو یہ پہنائیں گے۔ یا پھر ایسے امور کا ارتکاب کریں گے، جن سے نبی ﷺ نے منع فرمایا۔ مثلا چوپایوں کے گوبر اور ہڈیوں سے استنجا کرنا۔ نبی ﷺ نے اپنے صحابی کو وصیت فرمائی کہ وہ امت تک یہ بات پہنچا دیں کہ ان کے نبی ﷺ اس شخص سے بری ہیں، جو یہ کام کرتا ہے۔