اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ساتھیوں سے اس بات کا عہد لیا ہے کہ وہ آسان اور مشکل حالت اور مال داری اور غربت میں، حکام کے فرمان ان کو پسند ہوں یا نہ ہوں، یہاں تک کہ حکمراں عوامی دولت اور عہدوں وغیرہ کی تقسیم کے معاملے میں ان پر کسی کو ترجیح ہی کیوں نہ دیتے ہوں، حکمرانوں کی بات مان کر چلیں گے اور ان کے خلاف بغاوت کا پرچم نہيں اٹھائیں گے۔ کیوں کہ ان سے لڑنے کے نتیجے میں جو فتنہ و فساد برپا ہوگا، وہ ان کے ظلم کے نتیجے میں ہونے والے فتنہ و فساد سے زیادہ بڑا ہوگا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے اس بات کا بھی عہد لیا کہ وہ جہاں بھی رہیں گے، اللہ کی رضا جوئی کے لیے حق بات کہیں گے اور کسی کی سرزنش کی پرواہ نہیں کریں گے۔