ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "بلاشبہ تم لوگ امارت کی چاہت رکھوگے، لیکن وہی امارت قیامت کے دن تمھارے لیے ندامت کا سبب بنے گی, یپس کیا ہی اچھی ہوتی ہے دودھ پلانے والی اور کیا ہی بری ہوتی ہے دودھ چھڑانے والی"۔ صحیح - اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
explain-icon

شرح

یہ حدیث امارت اور اس کے حکم میں داخل دیگر عہدوں جیسے منصب قضا وغیرہ کی اہمیت اور آخرت میں درپیش ہونے والے اس کے بے شمار لوازمات اور ذمے داریوں سے آگاہ کرتی ہے۔ اسی طرح اسے طلب کرنے اور اس کی چاہت رکھنے سے بھی گریزاں رہنے کی تاکید کرتی ہے۔ لیکن یہ ممانعت اس کے لیے ہے، جو اہلیت نہ رکھنے کے باوجود تگ و دو کرکے منصب حاصل کرے اور اس کی حرص رکھے۔ اس کے برخلاف، اگر کسی کے اندر اہلیت ہو اور اس کی جانب سے کسی تگ و دو کے بنا ہی اسے ذمے داری دی جائے اور وہ عدل ونصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اس ذمے داری کو نبھائے، تو اسے اللہ کی مدد حاصل ہوگی، جیسا کہ اس کا ذکر دیگر حدیثوں میں آیا ہے۔ اس حدیث میں امارت کی تشبیہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ ایک بہترین دودھ پلانے والی ہے، کیونکہ وہ مال و دولت، جاہ و منصب اور حکم نافذ کرنے کی طاقت جیسے منافع دیتی ہے اور قیامت کے دن اپنے لوازمات اور حسرت سامانیوں کی وجہ سے بری دودھ چھڑانے والی ہے۔