یہ حدیث امارت اور اس کے حکم میں داخل دیگر عہدوں جیسے منصب قضا وغیرہ کی اہمیت اور آخرت میں درپیش ہونے والے اس کے بے شمار لوازمات اور ذمے داریوں سے آگاہ کرتی ہے۔ اسی طرح اسے طلب کرنے اور اس کی چاہت رکھنے سے بھی گریزاں رہنے کی تاکید کرتی ہے۔ لیکن یہ ممانعت اس کے لیے ہے، جو اہلیت نہ رکھنے کے باوجود تگ و دو کرکے منصب حاصل کرے اور اس کی حرص رکھے۔ اس کے برخلاف، اگر کسی کے اندر اہلیت ہو اور اس کی جانب سے کسی تگ و دو کے بنا ہی اسے ذمے داری دی جائے اور وہ عدل ونصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اس ذمے داری کو نبھائے، تو اسے اللہ کی مدد حاصل ہوگی، جیسا کہ اس کا ذکر دیگر حدیثوں میں آیا ہے۔ اس حدیث میں امارت کی تشبیہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ ایک بہترین دودھ پلانے والی ہے، کیونکہ وہ مال و دولت، جاہ و منصب اور حکم نافذ کرنے کی طاقت جیسے منافع دیتی ہے اور قیامت کے دن اپنے لوازمات اور حسرت سامانیوں کی وجہ سے بری دودھ چھڑانے والی ہے۔