معاویہ بن ابو سفیان مسجد میں موجود ایک حلقے کے پاس پہنچے اور حلقے میں شامل لوگوں سے پوچھا کہ وہ کس مقصد سے بیٹھے ہوئے ہیں؟ لوگوں نے جواب دیا : اللہ کا ذکر کرنے کے ارادے سے۔ چنانچہ انھوں نے ان کو قسم کھانے کو کہا کہ کیا واقعی ان کے بیٹھنے اور یکجا ہونے کا مقصد اللہ کے ذکر کے سوا کچھ اور نہيں ہے؟ جب انھوں نے قسم کھا لی، تو فرمایا : میں نے تم کو قسم کھانے کو اس لیے نہيں کہا کہ میں تمھیں جھوٹا سمجھتا ہوں اور تمھارے سچے ہونے میں مجھے شبہ ہے۔ پھر انھوں نے بتایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے یہاں ان کو کیا مقام و مرتبہ حاصل تھا۔ بتایا کہ ان کو آپ سے جو قربت حاصل تھی، وہ کسی اور کو نہيں تھی۔ کیوں کہ ان کی بہن ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیوی تھیں اور خود وہ کاتبین وحی میں شامل تھے۔ لیکن اس کے باوجود انھوں نے آپ سے بہت کم حدیثیں نقل کی ہیں۔ پھر انھوں نے بتایا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ایک دن گھر سے نکلے، تو دیکھا کہ کچھ صحابہ مسجد میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کر رہے ہيں اور اسلام کی ہدایت دینے پر اس کی تعریف کر رہے ہيں۔ چنانچہ آپ نے ان سے بیٹھنے کا مقصد پوچھا اور قسم بھی کھانے کو کہا، جیسا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔ پھر آپ نے اپنے ساتھیوں کو بیٹھنےکا سبب پوچھنے اور قسم کھانے کو کہنے کی وجہ بھی بتا دی۔ بتایا کہ آپ کے پاس جبریل علیہ السلام آئے تھے اور بتا رہے تھے کہ اللہ تعالی فرشتوں کے سامنے ان پر فخر و مباہات کر رہا ہے، ان کی فضیلت کا اظہار کر رہا ہے، ان کا حسن عمل دکھا رہا ہے اور ان کی تعریف کر رہا ہے۔