حنظلہ رضی اللہ عنہ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ آپ ﷺ کے پاس جس حالت میں ہوتے ہیں دوسرے وقت اُس حالت میں نہیں ہوتے؛ آپ ﷺ کے پاس اس حالت میں ہوتے ہیں کہ اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں، لیکن جب اپنے بچوں، عورتوں اور دنیاوی امور میں پڑ جاتے ہیں تو ان کی حالتیں بدل جاتی ہیں، حنظلہ رضی اللہ عنہ نےاسے نفاق خیال کیا۔ اس لیے کہ نفاق کہتے ہیں کہ ایسی حالت کو ظاہر کرنا جو باطن کے خلاف ہو۔ جب انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کو بتایا تو کہا اگر مسلسل اس حال پر قائم رہو جس حال میں میرے پاس ہوتے ہو، تو فرشتے اپنے ہاتھوں تم سے ہر حالت میں سلام کرے۔ لیکن اعتدال ضروری ہے ایک وقت اللہ کے لیے اور ایک وقت گھر والوں اور دنیا کے لیے۔