explain-icon

شرح

برا کام یا بری بات کرنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق کا حصہ نہيں تھا۔ ایسا آپ نہ بالقصد کرتے تھے اور نہ جان بوجھ کر۔ آپ بڑے ہی اخلاق مند تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ کے نزدیک تمھارے بیچ افضل شخص وہ ہے، جو اخلاقی اعتبار سے سب سے اچھا ہو۔ یعنی دوسروں کے ساتھ بھلا کرتا ہو، ہنس کر ملتا ہو، کسی کو اذیت نہ پہنچا تا ہو، کوئی اذیت دے تو برداشت کر لیتا ہو اور لوگوں سے گھل مل کر رہتا ہو۔

explain-icon

حدیث کے کچھ فوائد

  • مؤمن کو بری بات اور برے کام سے دور رہنا چاہیے۔
  • اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا اخلاقی کمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے نیکی کے کاموں اور اچھی باتوں کے علاوہ کچھ اور جاری نہيں ہوتا تھا۔
  • حسن اخلاق میں مقابلہ آرائی اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا جذبہ ہونا چاہیے۔ اس میدان میں جو آگے بڑھ گیا، اس کا شمار سب سے اچھے اور کامل ترین ایمان والے لوگوں میں ہو گیا۔