یہ حدیث ملاقات کے وقت خندہ روئی اور چہرے کی بشاشت کے ساتھ پیش آنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے اور حسن خلق ، حسن معاشرت اور اسی طرح لوگوں کے ساتھ اچھی گفتگو اور اچھا معاملہ کرنے کی فضیلت بیان کرتی ہے۔ ایسا کرنا ہر انسان کے بس میں ہوتاہے ۔ یہی وہ اخلاق ہیں جو محبت کو فروغ دیتے ہیں اورافراد معاشرہ کے مابین دائمی الفت پیدا کرتے ہیں۔