اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات سے خبردار کیا ہے کہ کوئی عورت اولیا کی اجازت کے بغیر شادی کر لے۔ آپ نے اس طرح کے نکاح کو باطل کہا ہے اور اس جملے کو تین بار دوہرایا ہے۔ گویا کہ یہ نکاح ہوا ہی نہیں۔ اگر عورت کے ولی کی اجازت کے بغیر اس سے نکاح کرنے والے شخص نے اس سے دخول کر لیا، توچوں کہ اس سے جماع کرلیا ہے اس لئے اس عورت کو پورا مہر ملے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ اگر ولایتِ عقد کے سلسلے میں اولیا کے درمیان اختلاف ہو جائے اور سارے اولیا مرتبے میں برابر ہوں، تو اس کا کیا ہوا عقد درست ہوگا جو پہلے عقد کرائے، بشرطیکہ اس نے عورت کے مصالح کا خیال رکھتے ہوئے نکاح کرایا ہو۔ اگر ولی نکاح کرانے سے منع کر دے، تو ایسا مانا جائے گا کہ اس کا ولی نہيں ہے۔ ایسے میں سلطان اور اس کا قائم مقام جیسے قاضی وغیرہ اس کے ولی ہوں گے۔ لیکن ولی کی موجودگی میں سلطان کو حق ولایت حاصل نہيں ہو سکتا۔