اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک دن فجر کی نماز پڑھی اور اس کے بعد پوچھا کہ کیا ہماری اس نماز میں فلاں شخص موجود ہے؟ صحابہ نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر آپ نے دوسرے شخص کے بارے میں پوچھا کہ کیا فلاں شخص موجود ہے؟ صحابہ نے اس بار بھی نہیں میں جواب دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: بلاشبہ فجر اور عشا کی نمازیں منافقوں پر سب سے بھاری ہیں، کیوں کہ ان دونوں اوقات میں سستی کا غلبہ رہتا ہے اور ریاکاری کا امکان کم ہو جاتا ہے کہ تاریکی کی وجہ سے کوئی دیکھ نہیں سکتا۔ اے مومنو! اگر تم جان لو کہ صبح اور عشا کی نماز میں کتنا اضافی اجر و ثواب ہے، (کیوں کہ اجر و ثواب مشقت کے بہ قدر ملا کرتا ہے) تو تم ان دونوں نمازوں میں ضرور پہنچوگے۔ چاہے گھٹنوں اور ہاتھوں کے بل چل کر ہی کیوں نہ پہنچنا پڑے۔ بلاشبہ پہلی صف اس میں کھڑے لوگوں کے امام سے قریب ہونے کے لحاظ سے فرشتوں کی صف کی مانند ہے اللہ سے قریب ہونے کے لحاظ سے۔ اگر ایمان والے پہلی صف کی فضیلت سے واقف ہو جائيں، تو اس میں کھڑے ہونے کے لیے مقابلہ آرائی کرنے لگيں۔ بلاشبہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے زیادہ اجر وثواب کا باعث ہے اور دو شخص کے ساتھ نماز پڑھنا ایک شخص کے ساتھ نماز پڑھنے سے زیادہ ثواب کا باعث ہے۔ جس نماز میں نمازیوں کی تعداد زیادہ ہو، وہ اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب اور افضل ہے۔