explain-icon

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بیان فرما رہے ہیں کہ والد کی ذمے داری ہے کہ اس کے بچے اور بچیاں جب سات سال کے ہو جائيں، تو ان کو نماز پڑھنے کا حکم دے اور نماز قائم کرنے سے متعلق ضروری باتیں سکھائے۔ پھر جب دس سال کے ہو جائيں تو صرف حکم دینے پر اکتفا نہ کرے۔ بلکہ نماز میں کوتاہی کرنے پر مارے اور ان کا بستر الگ کر دے۔

explain-icon

حدیث کے کچھ فوائد

  • بچوں کو بالغ ہونے سے پہلے ہی دینی باتیں سکھا دی جائيں، جن میں ایک اہم ترین چيز نماز ہے۔
  • مار ادب سکھانے کے لیے ہونی چاہیے۔ عذاب دینے کے لیے نہيں۔ مارتے وقت بچے کی حالت کا خیال رکھا جائے۔
  • شریعت نے عزت کے تحفظ اور بگاڑ کے تمام راستوں کو مسدود کرنے پر توجہ دی ہے۔