اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جب انسان تہجد یا فجر کی نماز کے لیے اٹھنا چاہتا ہے، تو کس طرح شيطان اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک مومن شخص جب سو جاتا ہے، تو شیطان اس کے سر کے پچھلے حصے میں تین گرہیں لگا دیتا ہے۔ چنانچہ جب وہ جاگ کر اللہ کو یاد کرتا ہے اور شیطان کے وسوسوں کو خلل ڈالنے نہيں دیتا، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر وضو کرتا ہے، تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر اگر اٹھ کر نماز پڑھتا ہے، تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ نتیجے کے طور انسان صبح اس حال میں کرتا ہے کہ وه خوش مزاج اور چاق وچوبند رہتا ہے کیوں کہ طاعت کے لئے توفیق الہی ملنے کى وجہ سے وہ مسرور ہوتا ہے ساتھ ہی اللہ نے جو ثواب ومغرفت کا وعدہ کیا ہے اس سے اچھی امید رکھتا ہے اور اس بات پر بھی خوش ہوتا ہے کہ شیطان کے ہتھکنڈے ناکام ہو گئے۔ اس کے برعکس اگر وہ عبادت کے لیے کھڑا نہيں ہوا، تو اس کی صبح بدمزاجی، کبیدگی اور بھلائی و نیکی کے کاموں میں سستی کے ساتھ ہوتی ہے۔ کیوں کہ دراصل وہ شیطانى زنجیر میں قید اور رحمن کی قربت سے دور کر دیا گیا ہوتا ہے۔