اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے فجر کی نماز پڑھ لی، وہ اللہ کے تحفظ اور نگرانی میں ہوتا ہے۔ اللہ اس کا دفاع کرتا ہے اور اس کے لیے انتقام لیتا ہے۔ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس عہد کو توڑنے سے منع کیا، جس کی ایک شکل یہ ہے کہ فجر کی نماز چھوڑ دی جائے اور دوسری شکل یہ ہے کہ فجر کی نماز پڑھنے والے کو تکلیف پہنچائی جائے یا اس پر دست درازی کی جائے۔ کیوں کہ جس نے ایسا کیا، اس نے اس دیوار کو توڑا اور اس سخت وعید کا مستحق ہو گیا کہ اللہ اسے اپنے حق میں کوتاہی کرنے کی وجہ سے طلب کرے گا اور جسے اللہ طلب کرے گا، اسے وہ پا ہی لے گا اور پھر اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈال دے گا۔