اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم گناہ، شرک اور لوگوں کا حق مار کر ظلم کے راستے پر آگے بڑھتے جانے سے خبردار کر رہے ہيں۔ کیوں کہ اللہ تعالی ظالم کو فورا سزا دینے کی بجائے اسے مہلت اور ڈھیل دیتا ہے اور اس کی عمر اور دھن دولت کو بڑھاتا جاتا ہے۔ ایسے میں اگر وہ توبہ نہیں کرتا، تو اس کا ظلم بڑھ جانے کی وجہ سے اسے پکڑ لیتا ہے اور پھر چھوڑتا نہیں ہے۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ آیت پڑھی : {وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ} (تیرے پروردگار کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے، جب کہ وه بستیوں کے رہنے والے ﻇالموں کو پکڑتا ہے۔ بےشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور نہایت سخت ہے)۔ [سورہ ہود : 102]