اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم آپ سے نقل شدہ علم کو پہنچانے کا حکم دے رہے ہیں، چاہے وہ قرآن کی صورت میں ہو یا حدیث کی صورت میں۔ وہ علم کم، مثلا قرآن کی ایک آیت یا ایک حدیث ہی کیوں نہ ہو۔ بس شرط یہ ہے کہ انسان جو کچھ پہنچا رہا ہے اور جس کی دعوت دے رہا ہے، اس کے پاس اس کی جان کاری ہو۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ بنی اسرائیل کے زمانے میں وقوع پزیر ہونے والے ایسے واقعات کو بیان کرنے میں کوئی حرج نہيں ہے، جو ہماری شریعت سے ٹکراتی نہ ہوں۔ اس کے بعد آپ نے اپنی طرف جھوٹ کی نسبت کرنے سے ڈرایا ہے اور بتایا ہے کہ جس نے آپ کی جانب جان بوجھ کر جھوٹ کی نسبت کی، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔