ایک دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے وعظ فرمایا۔ وعظ اتنا متاثر کرنے والا تھا کہ اس سے لوگوں کے دل دہل گئے اور آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔ یہ منظر دیکھ کر صحابہ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک الوداع کہنے والے کی جانب سے پیش کیا جانے والا خطاب ہے۔ کیوں کہ انھوں نے دیکھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خطاب کرتے وقت اپنا کلیجہ نکال کر رکھ دیا۔ لہذا انھوں نے آپ سے کچھ وصیت کرنے کو کہا، تاکہ آپ کے بعد اسے مضبوطی سے پکڑے رہیں۔ چنانچہ آپ نے کہا: میں تم کو اللہ عز وجل کا خوف رکھنے کی وصیت کرتا ہوں۔ یہاں یہ یاد رہے کہ اللہ سے ڈرنے کا مطلب ہے واجبات کو ادا کرنا اور محرمات سے اجتناب کرنا۔ اسی طرح میں تم کو حکمرانوں کا حکم سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں۔ خواہ تمھارا حکمراں کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ یعنی ایک معمولی سے معمولی انسان بھی اگر تمھارا حکمراں بن جائے، تو تم اس سے بدک کر دور مت ہٹو۔ تم اس کی بات مانو، تاکہ فتنے سر نہ اٹھا سکیں۔ کیوں کہ تم میں سے جو لوگ زندہ رہيں گے، وہ بہت سارا اختلاف دیکھیں گے۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ سلم نے اپنے صحابہ کو اس اختلاف سے نکلنے کا راستہ بتایا۔ راستہ یہ ہے کہ آپ کی سنت اور آپ کے بعد مسند خلافت سنبھالنے والے نیک ہدایت یاب خلفا؛ ابو بکر صدیق، عمر بن خطاب، عثمان بن عفان اور علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہم کی سنت کو مضبوطی سے تھام کر رکھا جائے۔ آپ نے اسے داڑھوں سے پکڑنے کا حکم دیا۔ یعنی ہر حال میں سنت کو لازم پکڑا جائے اور اس پر قائم رہا جائے۔ اس کے بعد آپ نے ان کو دین کے نام پر سامنے آنے والی نت نئی چیزوں یعنی بدعات و محدثات سے خبردار کیا۔ کیوں کہ دین کے نام پر سامنے آنے والی ہر نئی چیز گمراہی ہے۔