عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بغل میں سوئی ہوئی تھی کہ رات میں آپ بستر پر نہیں ملے۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے حجرے کی اس جگہ کو ٹٹولا، جہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نماز پڑھا کرتے تھے، تو پایا کہ آپ سجدے کی حالت میں ہیں، آپ کے دونوں قدم کھڑے ہيں اور کہہ رہے ہیں: "اللهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ". یعنی اے اللہ! مجھے تیری رضا چاہیے۔ میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ تو مجھ پر یا میری امت پر ناراض ہو جائے۔ "وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ"۔ میں تیرے بے پایاں عفو و درگزر کے ذریعہ تیری سزا سے پناہ مانگتا ہوں۔ "وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ". میں تیری صفات جمالی کے وسیلے سے تیری صفات جلالی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ کیوں کہ تجھ سے پناہ بس تو ہی دے سکتا ہے۔ اللہ کے دربار کے علاوہ نہ کوئی بچ کر نکلنے کی جگہ ہے اور نہ کوئی پناہ گاہ۔ "لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ"۔ میں ہزار کوشش کے باوجود تیری ان نعمتوں اور احسانات کو کما حقہ شمار نہيں کر سکتا، جن سے تونے مجھے نواز رکھا ہے۔ "أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ"۔ تو ویسا ہی ہے، جیسا تونے اپنی تعریف کرتے ہوئے اپنے بارے میں بتایا ہے۔ تونے اپنی تعریف اپنے شایان شان انداز میں کی ہے۔ تیری تعریف کا حق دوسرا کوئی ادا کر نہیں سکتا۔