ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بتا رہے کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے۔ ان کے ساتھ ان کے قبیلے کے کچھ اور لوگ بھی موجود تھے۔ مقصد یہ تھا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم انھیں سواری کے لیے کچھ اونٹ دیں، تاکہ وہ جہاد میں شریک ہو سکیں۔ لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قسم کھاکر بتا دیا کہ آپ انھیں سواری نہيں دے سکتے۔ آپ کے پاس انھیں دینے کے لیے سواری کا انتظام نہيں ہے۔ لہذا واپس ہو گئے۔ کچھ دیر رکے۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس تین اونٹ آئے، تو ان کے یہاں بھجوا دیے۔ یہ دیکھ کر ان میں سے کچھ لوگوں نے دیگر لوگوں سے کہا : اللہ ہمار لیے ان اونٹوں میں برکت نہ دے۔ کیوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم کھا لی تھی۔ لہذا وہ آپ کے پاس آئے اور پوچھا، تو آپ نے کہا : تمھیں سواری تو دراصل اللہ نے دی ہے۔ کیوں کہ انتظام اسی نے کیا ہے اور توفیق اسی نے دی ہے۔ میں تو بس ایک سبب ہوں کہ یہ میرے ہاتھوں انجام پایا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آگے فرمایا : جہاں تک میری بات ہے، تو اللہ کی قسم، جب بھی میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھاؤں گا اور بعد میں دیکھوں گا کہ میں نے جس کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائی تھی، اس سے بہتر کام دوسرا ہے، تو قسم کھائے ہوئے کام کو چھوڑ کر دوسرا کام، جو اس سے بہتر ہے، اسے کروں گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔