عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے سنا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کافی کچھ عطیہ و صدقہ کیا ہے۔ انھیں عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ عطیہ بہت زیادہ نظر آیا، اس لیے کہا: اگر وہ باز نہیں آئیں، تو میں انھیں مال میں تصرّف کرنے سے روک دوں گا۔ یہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حق میں بہت سخت بات تھی؛ کیوں کہ وہ ان کی خالہ تھیں اورعقل و فکر، حلم و بردباری اور حکمت ودانش والی تھیں؛ اس لیے ان کے بارے میں ایسی بات کہنا مناسب نہیں تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات سن لی۔ انھیں بتانے کا کام غیبت کرنے والوں اور چغل خوری کے ذریعے آپس میں فساد پھیلانے والوں نے کیا۔ جب یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا تک پہنچی، تو انھوں نے ان سے ہمیشہ نہ بات کرنے کی قسم کھا لی۔ انھوں نے اپنے بھانجے پر شدید ناراضگی کی وجہ سے کیا۔ انھوں نے قطع تعلق بھی کر لیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کا اپنے بھانجے سے ترکِ تعلق اختیار کرنا، ابن زبیر پر بہت سخت گزرے گا۔ چنانچہ وہ انھیں راضی کرنے کی کوشش کرنے لگے؛ لیکن ام المؤمنین رضی اللہ عنہا اپنے عزم پر قائم رہیں۔ کیوں کہ وہ نذر کو بہت اہم جانتی تھیں۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ کے دو ساتھیوں کو اپنا سفارشی بنایا۔ ان دونوں نے ام المؤمنین کے ساتھ حیلہ کا راستہ اختیار کیا، جو بجا بھی تھا؛ کیوں کہ اس کا نیک مقصد تھا۔ اصلاح بین الناس کا مقصد۔ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اجازت طلب کی؛ چنانچہ سلام کیا اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔ جب انھوں نے داخل ہونے کی اجازت دے دی، تو دونوں نے کہا: ہم داخل ہو جائیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہاں! ان لوگوں نے کہا: ہم سب؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سب لوگ! عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم نہیں تھا کہ عبد اللہ بن زبیر بھی ان دونوں کے ساتھ ہیں۔ پھر بھی انھوں نے یہ نہیں کہا کہ کیا تمھارے ساتھ عبد اللہ بن زبیر ہیں؟ انھوں نے کوئی تفصیل نہیں طلب کی؛ بلکہ عام بات کہہ دی کہ تم سب داخل ہوجاؤ۔ چنانچہ وہ داخل ہوئے۔ جب وہ اندر داخل ہوئے تو ان پر امہات المومنین کا حجاب تھا۔ یعنی ایک ایسا پردہ جس سے امہات المؤمنین پردہ فرمایا کرتی تھیں؛ تاکہ لوگ انھیں دیکھ نہ پائيں، وہ عام عورتوں والا حجاب نہیں تھا؛ کیوں کہ عام عورتوں کے حجاب میں چہرہ اور جسم کو ڈھاکنا ہوتاہے، لیکن یہ حجاب ایسا تھا جو لوگوں اور امہات المومنین کے درمیان حاجب اور حائل ہوا کرتا تھا۔ جب وہ دونوں گھر میں داخل ہوئے، تو عبد اللہ بن زبیر پردے کے اندر داخل ہوگئے؛ کیوں کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے۔ اس طرح وہ ان کے محارم میں سے تھیں۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہما ام المؤمنین کی طرف متوجہ ہوئے، انھیں بوسہ دینے لگے، رونے لگے، اللہ کا واسطہ دے کر قطع کلامی سے ڈرانے لگے اور کہنے لگے کہ یہ جائز نہیں ہے۔ لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نذر کا معاملہ سخت ہے۔ پھر ان دونوں نے انھیں اس قطع کلامی سے، جس کا انھوں نے پختہ عزم کر رکھا تھا، رجوع کرنے پر آمادہ کیا اور نبی ﷺ کی وہ حدیث سنائی، جس میں ہے کہ کسی مومن کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ یہاں تک کہ عائشہ رضی اللہ عنہا مطمئن ہوگئیں اور رونے لگیں اور عبد اللہ بن زبیر سے بات چیت شروع کردیں۔ لیکن یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا کو کافی غمگین کرتی رہی۔ چنانچہ جب بھی عائشہ رضی اللہ عنہا اسے یاد کرتیں، رونے لگتیں۔ کیوں کہ یہ بات بہت سخت تھی۔ اس نذر کی بنا پر انھوں نے چالیس غلام آزاد کیے؛ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی گردن کو جہنم سے آزاد کردے۔ ان کا یہ عمل مزید تقوی و پرہیزگاری کے طور پر تھا؛ ورنہ واجب تو ایک ہی گردن آزاد کرنا تھا۔