explain-icon

شرح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ منافق کی حالت اس بکری کی سی ہوتی ہے جو ہمیشہ تذبذب میں رہتی ہے اور اسے پتہ نہیں ہوتا کہ بکریوں کے کس ریوڑ کے ساتھ رہے۔ کبھی اس ریوڑ کی طرف جاتی ہے، تو کبھی اس ریوڑ کی طرف۔ اس طرح منافقین ایمان و کفر کے درمیان حیرانگی وپریشانی کی زندگی گزارتے ہیں۔ نہ وہ ظاہر و باطن سے مؤمنوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور نہ کافروں کے ساتھ، بلکہ ظاہری طور پر مؤمنوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور باطنی طور پر شک و تردد کے شکار ہوتے ہیں۔ چنانچہ کبھی مومنین کى طرف مائل ہوتے ہیں، تو کبھی کفار کى طرف۔

explain-icon

حدیث کے کچھ فوائد

  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مفہوم و مراد کو سمجھانے کے لیے مثال بیان کرتے تھے۔
  • منافقین کی یہ حالت بتائی گئی ہے کہ وہ شک و شبہ اور بے قراری کی کیفیت میں رہتے ہیں۔
  • منافقوں کی حالت سے دور رہنے کو کہا گیا ہے اور ایمان کے معاملے میں ظاہری وباطنی ہر طرح سے صدق و سچائی اور پختہ عزم وارادہ کی ترغیب دی گئی ہے۔