نبی ﷺ اپنے بعض اصحاب کے ساتھ تشريف فرما تھے۔مجلس ميں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے۔ اچانک رسول اللہ ﷺ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے اور دیر تک تشریف نہ لائے۔ صحابۂ کرام کو خوف لاحق ہوا کہ کہيں ان کی غیر موجودگی میں کسی نے آپ کو پکڑ نہ لیا ہو اور آپ کو تکليف پہونچی ہو۔کيونکہ آپ ﷺ منافقوں اور دوسرے اسلام کے دشمنوں کی آنکھوں ميں کھٹکتے تھے۔ اس لیے صحابہ کرام گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے، سب سے پہلے ابو ہريرہ رضی اللہ عنہ کو گھبراہٹ ہوئی، (وہ رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکلے) یہاں تک کہ بنو نجار کے باغ تک پہنچ گئے اور اس کا چکر لگانے لگے تاکہ کوئی دروازہ کھلا ہوا پاجائيں مگر انھیں نہیں ملا۔ ليکن انہوں نے پانی کے داخل ہونے کے لیے دیوار میں ايک چھوٹا سا راستہ کھلا ہوا پايا تو اپنے جسم کو سميٹ کر اندر داخل ہونے ميں کامياب ہو گئے۔ چنانچہ نبی ﷺ کو وہاں پر موجود پايا۔ آپ ﷺ نے ان سے کہا”ابو ہريرہ؟“، انہوں نے عرض کيا جی ہاں، تو آپ ﷺ نے انھیں اپنی جوتياں ديں جو اس بات کی علامت اور نشانی کے طور پر تھی کہ ابو ہريرہ جو خبر دينے والے ہیں وہ اس ميں سچے ہیں، اور فرمایا ”میری یہ دونوں جوتیاں لےجاؤ اور اس باغ کے باہر جو بھی ملے، جو دل کے یقین کے ساتھ لا الٰہ الّا اللہ کی گواہی ديتا ہو تو اسے جنت کی بشارت دے دو۔‘‘ کيونکہ سچے دل سے اس کلمے کی گواہی دينے والا ضرور اللہ کے احکام کی بجا آوری کرے گا اور اللہ کی منع کردہ چيزوں سے بچے گا۔ اس لیے کہ اس کا معننی ہے کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود برحق نہیں۔ جب اس عظيم الشان کلمے کا يہ معنیٰ ہے تو ہر صورت ميں وہ شخص اللہ عزوجل ہی کی عبادت کرے گا جس کا کوئی شريک وساجھی نہيں۔ ليکن وہ شخص جو صرف زبان سے اس کلمے کی ادائيگی کرتا ہے اور سچے دل سے اس پر يقين نہيں رکھتا، تو اسے اس سے کوئی فائدہ نہيں ملے گا۔