عبد اللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے (اللہ کو چھوڑ کر) کسی اور چیز سے امید لگائی، وہ اسی چیز کے سپرد کر دیا جاتا ہے“۔ حَسَنْ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔
explain-icon

شرح

جو اپنے دل یا اپنے عمل یا پھر دونوں ہی کے ساتھ کسی چیز کی طرف متوجہ ہوا اور اس سے حصولِ منفعت یا دفعِ مضرت کی امید لگائی، اللہ تعالیٰ اسے اسی چیز کے سپرد کر دیتا ہے جس سے اس نے تعلق جوڑا ہو۔ پس جس نے اللہ سے ناطہ جوڑا، اس کے لیے اللہ کافی ہو جاتا ہے اور ہر مشکل کو اس کے لیے آسان کر دیتا ہے اور جو اللہ کو چھوڑ کر کسی اور سے تعلق جوڑتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اسی چیز کے حوالے کر دیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتا ہے۔

explain-icon

حدیث کے کچھ فوائد

  • اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور سے لو لگانے کی ممانعت۔
  • تمام امور میں اللہ تعالیٰ سے لو لگانے کا واجب ہونا۔
  • شرک کے نقصان اور اس کے برے انجام کا بیان۔
  • انسان کو بدلہ اسی جنس کا دیا جاتا ہے، جس جنس کا اس کے پاس عمل ہوتا ہے۔
  • عمل کا اچھا یا برا نتیجہ عامل کے اعتبارسے نکلتا ہے۔
  • اس شخص کی نامرادی، جو اللہ سے روگردانی کرے اور کسی اور سے نفع طلب کرے۔