نبی ﷺ کسی بھی شے سے بالکل بھی بد شگونی نہیں لیا کرتے تھے۔بدشگونی سے مراد ہر وہ شے ہے جو انسان کو کسی کام سے روک دے، جیساکہ زمانۂ جاہلیت کے لوگ کیا کرتے تھے۔ اسلام نے آتے ہیں بدشگونی و بدفالی اور پانسے کے تیروں سے قسمت معلوم کرنے سے منع کردیا اور استخارہ کو اس کا بدل مشروع کیا۔