اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے حدیث قدسی میں فرمایا: اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا، میری رحمت کی امید لگائے رہے گا اور نا امید نہیں ہوگا، میں بے پرواہ ہوکر تیرے گناہ پر پردہ ڈالتا رہوں گا اور اسے مٹاتا رہوں گا۔ خواہ یہ گناہ کبیرہ گناہوں کے زمرے میں ہی کیوں نہ آتا ہو۔ اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ اتنے زیادہ بھی ہو جائيں کہ آسمان اور زمین کے درمیان کے خلا کو بھر دیں اور اس کے بعد بھی تم مجھ سے بخشش طلب کرو، تو گناہوں کی کثرت کی کوئی پرواہ کیے بغیر میں تجھ کو بخش دوں گا۔ اے ابن آدم! اگر تو موت کے بعد میرے پاس اس حال میں آئے کہ تیرے گناہوں اور نافرمانیوں سے روئے زمین بھری ہوئی ہو اور تو موحد بن کر فوت ہوا ہو اور کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرایا ہو، تو میں ان گناہوں اور نافرمانیوں کے مقابلے میں روئے زمین بھر مغفرت سے کام لوں گا۔ کیوں کہ میری بخشش کا دائرہ بڑا وسیع ہے۔ میں شرک کے علاوہ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہوں۔