نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالی قیامت کے دن ایک شخص کو منتخب کرکے تمام مخلوقات کے سامنے لائے گا۔ اسے دراصل حساب و کتاب کے لیے پکارا جائے گا۔ چناں چہ اللہ تعالی اس کے سامنے ننانوے دفتر پھیلا دے گا، جوکہ اس کی ان بد اعمالیوں کے صحیفے ہوں گے، جو وہ دنیا میں کیا کرتا تھا۔ ہر دفتر تا حد نگاہ پھیلا ہوگا۔ پھر اللہ عز وجل اس شخص سے کہے گا: کیا تم ان دفتروں میں تحریر کردہ کسی چیز کا انکار کرتے ہو؟ کیا میرے محافظ اور کاتب فرشتوں نے تمہارے اوپر ظلم کیا ہے؟ وہ شخص جواب دے گا: نہیں، اے میرے رب! ایسا نہیں ہے۔ اللہ عز وجل عرض فرمائے گا: کیا تمہارے پاس کوئی عذر ہے، جسے تم دنیا میں کیے ہوئے اپنے ان برے کاموں کے بدلے میں پیش کر سکو؟ مثلا یہ کہ یہ گناہ بھول چوک میں یا غلطی سے یا جہالت کی بنا پر انجام پاگئے۔ وہ شخص کہے گا: نہیں، اے میرے رب! میرے پاس کوئی عذر نہیں ہے۔ اللہ عز وجل فرمائے گا: (کوئی بات نہیں) ہمارے پاس تمہاری ایک نیکی ہے۔ آج کے دن تجھ پر کوئی ظلم و زیادتی نہیں ہوگی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس میں لکھا ہوگا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس کے بعد اللہ عز وجل اس شخص سے کہے گا : جاؤ اپنے اعمال کے وزن کی جگہ پر حاضر ہو جاؤ۔ وہ شخص فرط تعجب سے کہے گا: اے میرے پروردگار! ان دفتروں کے سامنے اس پرچہ کی کیا حیثیت؟! اللہ عز وجل فرمائے گا: آج تمہارے اوپر کوئی ظلم وزیادتی نہیں ہوگی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: چنانچہ تمام دفتروں کو ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے گا اور اس پرچی کو دوسرے پلڑے میں۔ بالآخر وہ پلڑا اوپر اٹھ جائے گا، جس میں سارے دفتر ہوں گے اور وہ پلڑا جھک جائے گا، جس میں وہ پرچی رکھی ہوگی۔ اس طرح اللہ تعالی اس شخص کو اپنی مغفرت سے نوازے گا۔